جدید عناوین

شب قدر کے اعمال

شب قدر میں پرودگار کی رحمت کے امیدوار بندہ کو چاہئے کہ وہ خود کو آب غسل سے معطر کرے اور بہتر یہ ہے کہ یہ غسل غروب آفتاب کے نزدیک ہو تاکہ نماز مغرب اسی غسل سے ادا کی جائے ۔
جانماز پر کھڑا ہوکر نماز شب قدر کی نیت کرے اور دو رکعت نماز اس طرح بجا لائے کہ ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سات مرتبہ سورۂ توحید (قل ھواللہ) پڑھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مرتبہ " استغفر الله و اتوب اليه " پڑھے ۔
۔ قرآن اپنے سامنے کھول کر رکھے اور اس دعا کو پڑھے : اللهم اني اسئلک بکتابک المنزل و ما فيه و فيه اسمک الاکبر و اسمائک الحسني و ما يخاف و يرجي ان تجعلني من عتقائک من النار ، اور پھر قرآن کو واسطہ قرار دے کر اپنی حاجت طلب کرے۔
۔ جب بندہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو وہ امید اور خوف کے درمیان ہوتا ہے ۔ ایک طرف اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ خداوند صالح بندوں کی امیدوں کا مرکز اور آرزؤوں کا مقصد ہے اور اس سے امید رکھنا عالم وجود کی سب سے قوی امید ہے اور دوسری طرف بندہ اپنے اعمال کی سستی سے خائف ہوتا ہے کہ کہیں ہمارے یہ ناقص اعمال حجاب اور مانع نہ بن جائیں ، اس بات کا ڈر بھی رہتا ہے کہ کہیں یہ گریہ و زاری گناہوں کے سیاہ پردے میں گم ہو کر نہ رہ جائے لیکن یہ گناہگار بندہ اسی خوف و امید کے درمیان اپنے پروردگار سے لو لگاتا ہے اور اس سے اپنا درد دل بیان کرتا ہے ۔
خدا کے اس مہمان کی سب سے پہلی خواہش گناہوں کی سیاہی سے پاکیزگی ہے ، پھر اپنی روح کو آب توبہ سے پاک کرتا ہے اور اپنے پرودگار سے بخشش طلب کرتا ہے ۔ مذکورہ دعا کو پڑھنے کے بعد توبہ کرنے والا بندہ کچھ دیر ٹھہر کر اپنی دنیاوی اور اخروی حاجتوں کو اپنے دل میں تصور کرتا ہے ۔
۔ قرآن شریف اٹھا کر سر پر رکھتا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اپنی جان کو قرآن پر قربان کر دے ، اس کا احساس ، فکر و ذکر اور پوری زندگی قرآن کے سایہ میں گزرے اس لئے پھر اپنے محبوب کے سامنے اپنے دل کے عقدے کھول کے آواز دیتا ہے ۔
اللهم بحق هذا القرآن و بحق من ارسلته به و بحق کل مؤمن مدحته فيه و بحقک عليهم فلا احد اعرف بحقک منک
خدا کو ثقلین(قرآن و عترت) کی قسم دیتا ہے ۔
متقی ، پرہیزگار اور خدا کے محمود بندوں کو واسطہ قرار دیتا ہے ۔
وہ خداوند عالم سے لو لگانا چاہتا ہے جبکہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی اس کی حقیقت کو نہیں جانتا ، کوئی دوسرا خدا کی توصیف بھی نہیں کر سکتا ہے ۔
پھر وہ خداوند عالم کے سامنے ان مبارک ناموں کو اپنی زبان پر جاری کرتا ہے بلکہ اس کے وجود کا ہر ذرہ ان ناموں کو دہراتا ہے اور ہر نام کو دس مرتبہ تکرار کرتا ہے ۔
بک يا الله... بمحمد... بعلي... بفاطمه... بالحسن... بالحسين... بعلي بن الحسين... بمحمد بن علي... بجعفر بن محمد... بموسي بن جعفر... بعلي بن موسي... بمحمد بن علي... بعلي بن محمد... بالحسن بن علي... بالحجة
اس مرحلہ سے گزرنے کے بعد وہ خداوند عالم کا دوست بن جاتا ہے دل سے ہر کدورت پاک ہو جاتی ہے اور دل میں کوئی کدورت ہے نہ کوئی رنجش ۔
یہاں سے ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے ، ایک اچھی زندگی کی امید ، عمیق فکر کی آرزو اور ایک پاکیزہ احساس کی تمنا لے کر ، اس امید کے ساتھ کہ پھر خدا کی بارگاہ میں شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔

علی علیہ السلام ؛ شیعوں کے مہربان باپ

رمضان المبارک کی ۲۱ تاریخ کو شیعہ اپنے اس مہربان باپ کے سایہ سے محروم ہو گئے اس لئے ہم اس دن نوحہ و ماتم کرتے ہیں اور اپنے کریم باپ کے غم میں سیاہ پوش رہتے ہیں ۔
اسد اللہ الغالب ،میدان جنگ کا وہ دلیر شیر ، جس کے دشمن اس کے مقابلے پر فخر کیا کرتے تھے چاہے ایک لمحہ کے لئے اس کا سامنا کیا ہو (شرح نہج البلاغہ ، ج/۱،ص/ ۲۱) وہ صبر کا پہاڑ وہ محبت کا دریا ، ابو تراب ، امیرالمومنین علی بن ابی طالب جس کی ساری زندگی عالم انسانیت کے لئے سرمشق عمل ہے ۔
جب گھر میں آتے تو فاطمہ (سلام اللہ علیھا )کی مدد کرتے ،گھر کی صفائی کرتے اور بچوں کی دیکھ بھال کرتے تاکہ زہرا (س) کچھ دیر کے لئے آرام کر لیں ۔ (وسائل الشیعہ ، ج/۱۷، ص/۴۸)
اس کریم مرد کے حلم و صبر کی توصیف کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب عبداللہ زبیر نے آپ کو برا بھلا کہا تو اس سے صرف اتنا فرمایا : زبیر جاؤ میں تمہیں نہیں دیکھنا چاہتا ۔ (غزوات امیر مومنان علی علیہ السلام ، جعفر نقدی ، ص/۱۱)
جب لوگ ان کی تعریف کرتے تو آپ خدا کی بارگاہ میں آکر عرض کرتے : " خدایا! تو مجھے مجھ سے بہتر جانتا ہے اور میں خود کو ان سے زیادہ جانتا ہوں ، پھر بھی خدایا! لوگ میری جیسی توصیف کرتے ہیں مجھ اس سے بہتربنا دے اور میرے بارے میں جو نہیں جانتے اس کے لئے انھیں معاف کر دے ۔ (نہج البلاغہ ، خطبہ /۱۰۰ )
دوست و دشمن کے آپ صفات حمیدہ کے ثناخواں تھے ، ایک دن ضرار بن ضمرہ نھشلی معاویہ کے پاس آیا ، معاویہ نے اس سے کہا کہ علی کی توصیف بیان کرو ! ضرار نے اس کام سے معذرت چاہی لیکن معاویہ نے اصرار کیا تو ضرار نے شروع کیا : خدا علی پر رحمت نازل کرے ، خدا کی قسم ہمارے درمیان وہ بالکل ہم جیسے تھے ، ہمارے پاس آتے ، اگر ہم سوال کرتے تو جواب دیتے تھے ، اگر ان کی زیارت کو جاتے تو ہمیں اپنے پاس بٹھاتے اور کبھی بھی ہمیں واپس نہیں لوٹاتے تھے ، کوئی دربان نہ تھا جو ان سے ملاقات کے لئے مانع ہوتا جبکہ آپ کی ہیبت برقرار تھی ، جب مسکراتے تو آپ کے دانت موتیوں کی طرح چمکتے تھے ۔
معاویہ نے کہا : اور بیان کرو ، ضرار بیان کرتے گئے ، راتوں کو عبادت میں بسر کرتے تھے ، رات بھر اور دن کے کچھ حصوں میں قرآن کی تلاوت کرتے تھے ، خود کو مکمل طور پر اپنے خالق کے حوالے کر چکے تھے ، ثروت اندوز اور جلد باز نہ تھے ،رات کی تاریکی میں جب اندھیرا چھا جاتا اور ستارے نکل آتے میں نے دیکھا کہ اپنی ڈاڑھی پکڑے ایسے تڑپ رہے ہیں جیسے سانپ کا کاٹا تڑپا کرتا ہے اور محزون دل سے گڑگڑا کے آواز دے رہے ہیں : اے دنیا ! میرے چکر میں آئی ہے ، تو میری مشتاق ہو گئی ہے ، جا مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں ہے ،میں تجھے تین طلاق دے چکا ہوں اس کے بعد رجوع کا امکان بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ پھر آپ نے فرمایا : آہ کہ سفر طویل ہے اور زاد راہ کم ہے ۔
جب ضرار کی گفتگو یہاں تک پہنچی تو معاویہ رونے لگا اور کہا : بس ، کافی ہے ، خدا کی قسم علی ایسے ہی تھے جیسا تم نے توصیف کیا ہے ، خدا ابوالحسن پر رحمت نازل کرے ۔ (بحارالانوار ، ج/ ۴۱، ص/ ۱۴۔ ۱۵ )

مادران قرآنی نامی اجتماع کے نام آیۃ اللہ العظمیٰ صافی کا پیغام

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علي اماء الله الصالحات اللاتي وصفهن الله تعالي في القرآن الکريم باشرف الاوصاف و اعلي المراتب و الکمالات المسلمات المؤمنات الذاکرات الامهات الخاشعات اللاتي اعدالله لهن مغفرة و اجراً عظيماً
سلام ہو قرآنی ماؤں پر ، وہ مائیں جو خود بھی قرآنی تربیت سے سے آراستہ ہیں اور اپنی گود میں قرآنی بچوں کی تربیت کر رہی ہیں ۔ وہ مائیں جن میں سب سے پیش قدم جناب خدیجہ سلام اللہ علیھا ہیں جنہیں سیدہ نساء العالمین فاطمہ زہرا(س) اور گیارہ اماموں کی ماں بننے کا شرف حاصل ہے ۔ شہداء کی وہ مائیں جو آج تک اسلام میں ستاروں کی طرح درخشاں ہیں جن پر تمام عورتیں بلکہ مرد بھی فخر کیا کرتے ہیں اور ان کی عظمت و مقام پر رشک کیا کرتے ہیں ۔ جناب زینب سلام اللہ علیھا ،جناب ابو طالب اور جعفر طیار کے خاندان کے دو شہیدوں کی ماں ، حضرت ام البنین ، جناب عباس علمدار کی ماں ، حضرت قاسم کی ماں ، حضرت علی اکبر و حضرت علی اصغر کی ماں ، وہب کلبی کی ماں اور اہلبیت علیہم السلام اور ان کے شیعوں کی مائیں ، سب پر سلام ہو ۔
یقیناً ! ہم سب کو قرآنی ہونا چاہئے ۔ عالم و جاہل ، مرد و عورت سبھی کو قرآنی بننا چاہئے ۔
قرآنی مائیں یعنی قرآنی خواتین ۔
قرآن مجید میں جہاں بھی کوئی عظیم بشری فریضہ کا اعلان کیا جاتا ہے وہاں خواتین کو بھی مردوں کے ساتھ مخاطب قرار دیا جاتا ہے ۔ جہاں بھی حقیقی فضائل کی بات آتی ہے جیسے " هدي للمتقين" ، " و ان اکرمکم عندالله اتقاکم" ، اور " لآيات لاولي الالباب" ان آیات میں مرد اور عورتیں سب مراد ہیں ۔
قرآنی مائیں یعنی وہ مائیں جن کے بچے اسلام اور دین کی نصرت کی راہ میں شہادت پر فائز ہوئے جنہوں نے قرآنی تربیت اور قرآنی سنت کی حفاظت کو اپنا شعار اور افتخار بنایا ۔ آج جب کہ ساری دنیا میں خواتین کو مغربی تمدن اور دین سے دوری کی طرف دعوت دی جا رہی ہے تو ان کی ذمہ داریاں بھی سنگین ہو گئی ہیں ، قرآنی سنتوں کی حفاظت ان کے ذمہ ہے ۔ اسلامی شناخت پر ان کی استقامت اور ان کا بعض پروگراموں میں شرکت نہ کرنا قرآنی تعلیمات اور قرآنی ہدایت کی ترویج کے لئے بہت ہی اہم اقدام ہوگا ۔
اس اجتماع کا محور " دین میں استقامت " ہونا چاہئے اور قرآن کا یہ پیغام " إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا " بیشک جن لوگوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور اسی پر جمے رہے(سورہ احقاف آیت/۱۳)، دین کی نصرت ، حجاب اور عفت کے مسئلے پر پایداری اور استقامت ، امور خانہ داری کو عبادت اور اپنے لئے باعث فخر سمجھنا، بچوں کی اچھی تربیت ، نامحرموں کے مجمع سے الگ رہنا ، یہ سب اس اجتماع کے پیغامات ہیں ۔
قرآنی پیغام
فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ (سورہ احزاب ،آیت ۳۲)
ترجمہ : کسی آدمی سے لگی لپٹی بات نہ کرنا کہ جس کے دل میں بیماری ہو اسے لالچ پیدا ہوجائے ۔
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ (سورہ احزاب ،آیت/۵۳)
جب ازواج پیغمبر سے کسی چیز کا سوال کرو تو پردہ کے پیچھے سے سوال کرو کہ یہ بات تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔
وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ
خبردار اپنے پاؤں پٹک کر نہ چلیں کہ جس زینت کو چھپائے ہوئے ہیں اس کا اظہار ہو جائے ۔
یہ وہ عناوین ہیں کہ جس کی ترویج اور اس کی حفاظت قرآنی خواتین کا وظیفہ ہے حتیٰ اس طرح کے اجتماعات کا انعقاد بھی اس بات کا باعث نہ بنے کہ خواتین بڑے اجتماعات میں شریک ہوں ۔
آپ کی اجازت سے میں ایک لفظ کہہ کر اپنی ذمہ داری ادا کر دوں کہ قرآن کریم ، احادیث شریفہ اور سیرت ائمہ اطہار علیہم السلام میں خواتین کی تمام فضیلت ان کے چہرہ چھپانے میں ہے ، اگر چہرہ کا پردہ واجب نہ بھی ہو تو کم سے کم بہتر تو ہے جیسا کہ حضرت فاطمہ زہرا(س) نے فرمایا ہے ۔
خداوند ہماری خواتین اور مردوں کو اسلامی شخصیت کی حفاظت اور قرآنی تہذیب کی پاسداری میں ثابت قدم رکھ اور قرآنی ماؤں کو قرآن مجید کے ساتھ محشور فرما ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رمضان المبارک ۱۴۳۱
لطف اللہ صافی
 

۱۵ رمضان المبارک ، ولادت با سعادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام

ہجرت کو پورے تین سال نہیں گزرے تھے ، ماہ رمضان کی راتیں آہستہ آہستہ گزر کر آدھا مہینہ گزار چکی تھیں اس نورانی گھر کے سبھی لوگ خوشخبری کے منتظر تھے ۔
جس وقت نومولود کے آمد کی خبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی ،آپ کا دل فرط مسرت سے باغ باغ ہو گیا اور بڑی تیزی کے ساتھ عالمین کی عورتوں کے سردار کے گھر پہنچے اور فرمایا :
یا اسماء ھاتینی ابنی ، اے اسماء میرے بیٹے کو میرے پاس لاؤ ۔
اسماء نے نو مولود کو آنحضرت کے ہاتھوں میں دیا ۔
آنحضرت نے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامۃ کہی ۔
پیغمبر اکرم (ص) نے علی مرتضیٰ علیہ السلام سے پوچھا :
کیا اس نو مولود کا کوئی نام رکھا ؟
حضرت علی (ع) نے جوا ب دیا : میں آپ پر سبقت نہیں کر سکتا ۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ جبرئیل امین نازل ہوئے اور رسول خدا(ص) کو خدا کا یہ حکم سنایا کہ "سمّہ حسنا" اس کا نام حسن رکھو ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود امام حسن (ع) کا عقیقہ کیا اور ان کے حق میں دعا کی ۔
(کشف الغمہ ،ص/۲۳۸ ماخوذ از کتاب " رمضان در تاریخ ، تالیف آیۃ اللہ العظمی صافی گلپائگانی دامت برکاتہ )
________________________________________
امام حسن علیہ السلام کی نظر میں مختلف مشکلوں کا حل
عظیم مفسر علامہ طبرسی مرحوم کہتے ہیں : ربیع بن صبیح سے مروی ہے کہ ایک شخص امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور خشک سالی اور مہنگائی کی شکایت کی ، حضرت نے اس سے فرمایا : استغفار کرو اور خدا سے مغفرت طلب کرو ۔ ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے فقیری و تنگدستی کا گلہ کیا ، امام (ع) نے اس سے بھی فرمایا: خدا سے استغفار کرو ۔ ایک اور شخص وارد ہوا اور اس نے آپ سے کہا کہ آپ میرے حق میں دعا کریں کہ خدا مجھے ایک بیٹا عطا کر دے ، حضرت نے اس سے بھی فرمایا : استغفار کرو اور خدا سے مغفرت طلب کرو ۔
ہم لوگوں نے آنحضرت سے کہا : " آپ کے پاس کئی لوگ آئے اور سب نے الگ الگ مشکلات کی شکایت کی اور الگ الگ تقاضے کئے لیکن آپ نے سب کو استغفار اور طلب مغفرت کا حکم دیا ؟ حضرت نے جواب دیا : میں نے یہ بات اپنے پاس سے نہیں کہی بلکہ خداوند عالم کے اس قول سے حاصل کی ہے کہ خداوند ارشاد فرماتا ہے : " استغروا ربکم انّه کان غفّاراً يرسل السماء عليکم مدراراً و يمددکم باموال و بنين و يجعل لکم جنّات و يجعل لکم انهاراً (نوح، آیت/ ۱۰۔۱۲)
ترجمہ: اور کہا کہ اپنے پروردگار سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے ، وہ تم پر موسلا دھار پانی برسائے گا، اور اموال و اولاد کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں قرار دے گا ۔
تفسیر مجمع البیان ،ج/۵،ص/۳۶۱
 

شہر مقدس کربلا کے امام جمعہ کی حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی سے ملاقات

علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی شہر مقدس کربلا کے امام جمعہ نے چہارشنبہ مورخہ ۱۸ اگست ۱۰ کو مشہد مقدس میں حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی سے ان کی قیامگاہ پر ملاقات کی اور گفتگو کی ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے عراق کے موجودہ حالات کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر اس ملک کے تمام شیعوں سے یہ درخواست کی کہ سب شیعہ مرجع تقلید کے حکم کے مطابق اتحاد و ہمدلی کے ساتھ مشکلات کو برطرف کرنے اور حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریں ۔
معظم لہ نے اسلام اور شیعیت کے دشمنوں کی عراق میں حکومت کی تشکیل سے ناراضگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : عراق میں پیدا ہونے والے اتحاد و اتفاق سے دشمن کو نقصان پہنچ رہا ہے اور ان کے منافع کو خطرہ لاحق ہے اس لئے وہ ہر ممکن راستے سے اس کی مخالفت کر رہے ہیں یہاں تک کہ وہ جنایت اور بہت سے نہتے مسلمانوں کا قتل کر کے اپنے اہداف کو حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
مرجع عالیقدر نے فرمایا : عراق کے لوگوں کے تجربے کے پیش نظر اور جو وہاں کے لوگوں نے اب تک اہلبیت (ع) کی محبت میں امتحان دیا ہے ، کبھی وہ دشمنوں سے خائف نہیں رہے اور اپنے شرعی وظیفہ کی انجام دہی میں پیش قدم رہے ہیں ۔
آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے عراق کے عظیم شہداء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : اس راہ میں جو شہداء اپنی جان دے رہے ہیں اللہ کے نزدیک ان کا بہت بلند مرتبہ ہے اور سب کے سب عزیز و سرفراز ہیں اور ایران کی امت مسلمہ ان تمام مرنے والوں کو راہ اسلام کا شہید جانتی ہے ۔
آخر سخن میں انھوں نے اسلام اور عراقی شیعوں کی کامیابی اور دشمنوں کی نابودی کے لئے دعا کی اور فرمایا : ہم شہدائے عراق کے پسماندگان کے ہمدرد ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔
اس ملاقات کے آغاز میں علامہ عبدالمہدی کربلائی جو حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی دامت برکاتہ کی جانب سے حرم سید الشہداء علیہ السلام اور حرم ابو الفضل العباس علیہ السلام کے سرپرست ہیں، انھوں نے عراق کے شیعوں کے حالات اور عتبات عالیات کے حالات پر مشتمل ایک رپورٹ حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی کی خدمت میں پیش کی ۔
 

۱۰ رمضان المبارک روز وفات حضرت خدیجۃ الکبریٰ (س)

عائشہ ناقل ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ خدیجہ کو یاد کرتے اور ان کی اچھائیوں کو بیان کر کے ان کی مدح و ثنا کیا کرتے تھے ۔
ایک دن میں نے تنگ آکر پیغمبر (ص) سے کہا : کیوں آپ اس بوڑھی عورت کو یاد کیا کرتے ہیں جب کہ خداوند عالم نے اس کے بدلے آپ کو اس سے بہتر ازواج سے نوازا ہے ۔ یہ سن کر پیغمبر غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ سر کے بال کانپنے لگے پھر آپ نے فرمایا : نہیں ! خدا کی قسم خدا نے اس سے بہتر ہمیں نہیں دیا ،جب لوگ کافر تھے اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائی اور جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے تب اس نے میری تصدیق کی اور اپنے مال کے ذریعہ ہماری مدد کی جب لوگوں نے میرا بایکاٹ کر رکھا تھا ،خداوند عالم نے اس کے ذریعہ مجھے صاحب اولاد بنایا جبکہ دیگر ازواج نے ہمیں اولاد کی نعمت سے محروم رکھا ۔ (اقتباس از کتاب رمضان در تاریخ ،تالیف حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی )
عائشہ ہی ناقل ہیں کہ مجھے جس قدر خدیجہ سے حسد تھا پیغمبر کی کسی زوجہ سے ایسا حسد نہ تھا کیوں کہ پیغمبر انھیں بہت زیادہ یاد کرتے اور جب گوسفند ذبح کرتے تو خدیجہ کے دوستوں کو ضرور بھیجتے تھے ۔ (اسد الغابہ، ج/۵، ص/۴۳۶)
________________________________________
خدا کا ارادہ یہ تھا کہ اس عظیم خاتون کو گیارہ اماموں کی ماں بننے کا شرف حاصل ہو اور عقل و ادب و حکمت و بصیرت و معرفت میں نابغہ اور ممتاز شخصیت کی مالک ہو ۔
آپ کمال و نبوغ اور فہم و بصیرت کا کامل نمونہ تھیں کہ آپ مردوں اور عورتوں میں کم نظیر تھیں ، عفت ، پاکدامنی ،نجابت ، سخاوت ،حسن معاشرت ، مہر و وفا آپ کے جملہ صفات ہیں ۔
زمانہ جاہلیت میں خدیجہ کو سیدہ ، طاہرہ ، قریش کی عورتوں کا سردار کہا جاتا تھا اور اسلام میں آپ ان چار عورتوں میں سے ہیں جو تمام جنت کی عورتوں سے افضل ہیں، اور آپ کی با عظمت دختر حضرت زہرا(س) کے علاوہ کسی کو یہ مقام عطا نہیں ہوا ۔
آپ رسول خدا (ص) کے لئے عظیم نعمت تھیں اور خدا کی وسیع رحمتوں میں سے ایک رحمت تھیں ۔
مرد کے لئے خاص کر ایسے مرد کے لئے جو گھر کے باہر کسی عظیم مشن کو چلا رہا ہو اور عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے در پے ہو اور اس پر چاروں طرف سے مخالفین اور دشمنوں کا ہجوم ہو ، ایک ایسی ہوشیار زوجہ درکار ہے جو اس کے قلب و روح کو اطمینان دلائے اس کی تھکن کو دور کرے اور اس کو حوصلہ اور جذبہ دے سکے ۔
اگر مرد گھر سے باہر دشمنوں سے بر سر پیکار ہو ان کے وحشیانہ حملے ، استہزاء ، اذیت و آزار کو تحمل کرتا ہو اور گھر میں بھی نادان اور بداخلاق بیوی سے سامنا ہو جو مرد کو اس کے ہدف تک پہنچنے سے منع کرے مرد کی سرزنش کرے اور دشمنوں کے سامنے جھکنے کو کہے اور اپنے شوہر کی روزانہ توہین و استہزاء سے تھک جائے اور اپنے شوہر کے مشکلات کو برطرف کرنے کی کوشش نہ کرتی ہو تو اس مرد کی مشکلیں دو برابر ہو جاتی ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے مرد کی مشکلات روز بہ روز بڑھتی ہی جائیں گے چونکہ نہ صرف اس کی شریک حیات اس کی مشکل کو حل کرنے میں اس کی مدد نہیں کرتی بلکہ اپنے غیر معقول رفتار و گفتار ، اعتراض و سرزنش سے اس کے مشکل کو سو گنا زیادہ کر دیتی ہے ۔
________________________________________
اگر پیغمبر کی اس عظیم شریک حیات نے اپنی کم نظیر ثروت کو پیغمبر(ص) کی خدمت میں پیش نہ کیا ہوتا اور خدا کی راہ میں فقیروں کو انفاق نہ کیا ہوتا اور اپنے شوہر کو یہ مشورہ دیتی کہ تمہارے قوم و قبیلے والے تمہیں اپنا رہبر و سردار بنا دیں گے اس لئے ان سے صلح و سازش کر لو اور ان کے دین و ان کے آداب و رسوم سے مطلب نہ رکھو ، اپنی پر سکون زندگی کو ہیجان آور مت بناؤ تو پیغمبر اکرم(ص) کس طرح خدیجہ کو قانع کرتے اور کون پیغمبر کے زخمی بدن اور مجروح دل پر مرہم رکھتا ۔
یقیناً پیغمبر اکرم کی پوری زندگی گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ سختیوں اور پریشانیوں سے بھر جاتی لیکن خدا کے لطف سے قلب خدیجہ میں ایسا دریچہ کھلا کہ انھوں نے حقانیت کو درک کرتے ہوئے اسلام کو قبول کیا اور لطف الٰہی نے ان کے دل کو حکمت و معرفت سے ایسا بھر دیا کہ پیغمبر اکرم(ص) گھر کے اندر کبھی ایسے افسوس ناک حالات سے دچار نہیں ہوئے ۔

ماہ مبارک رمضان کے اعمال و آداب

ماہ رمضان المبارک کے مخصوص اعمال
۱۔ ہر واجب نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا مستحب ہے " اللهم ارزقنی حج بیتک الحرام فی عامی...الخ"
۲۔ ہر واجب نماز کے بعد دعائے " یاعلیُ یاعظیمُ یاغفورُ یارحیمُ انت الرَّبُّ العظیم ۔۔۔۔۔۔الخ"پڑھنا مستحب ہے ۔
۳۔ رسول اکرم (ص) کے قول کے مطابق جو بھی دعائے " اللهم ادخل علی اهل القبور..." ہر واجب نماز کے بعد پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا۔
۴۔ ماہ رمضان المبارک میں دن اور رات کے بہترین اعمال میں سے قرآن کی تلاوت کرنا ہے ۔
۵۔ ماہ رمضان المبارک میں ہر تیسرے دن ایک قرآن ختم کرنا سنت ہے ۔
۶۔ اس مہینہ میں دعا صلوات ، استغفار اور لا الٰہ الا اللہ پڑھنا چاہئے ۔
۷۔ ماہ رمضان المبارک کی دعائیں بالخصوص ہر رات دعائے افتتاح پڑھنا چاہئے ۔
۸۔ رمضان المبارک کی راتوں میں دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے جس کی تفصیل مفاتیح الجنان میں ذکر ہے ۔
(مفاتیح الجنان ،ص ۳۵۶۔۳۵۸)
افطار کے آداب
افطار کے وقت سورہ انا انزلناہ اور دعائے " اللّهم لک صُمْتُ و علی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ و علیک تَوَکَّلْتُ" پڑھنا چاہئے ۔
۲۔ مستحب ہے کہ نماز کے بعد افطار کیا جائے لیکن اگر ضعف و نقاحت روزہ دار پر غالب ہو یا دوسرے لوگ افطار کے لئے منتظر ہوں تو پہلے افطار کر سکتا ہے ۔
۳۔ پاکیزہ اور حرام و شبہات سے پاک کھانے سے افطار کرنا چاہئے ۔
۴۔ افطار کا آغاز خرما سے کرنا چاہئے ایسی صورت میں اس کی نماز کے ثواب چار سو برابر دیا جائے گا ۔
۵۔ افطار خرما ، دودھ ، حلوا یا گرم پانی سے کرنا بہتر ہے ۔
۶۔ افطار کے پہلے لقمے میں " بسم الله الرحمن الرحیم یاواسع المغفرة اغفر لی "پڑھنے سے بندے کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں ۔
(مفاتیح الجنان ،ص/۳۶۰۔۳۶۱)
سحری کے اعمال
۱۔ سحری کھانا چاہئے اور ترک نہیں کرنا چاہئے چاہے ایک خرما یا ایک گھونٹ پانی سے سحری کرے ۔
۲۔ بہترین سحری قاوت اور خرما ہے۔
۳۔ سحری کھاتے وقت سورہ انا انزلناہ کی تلاوت مستحب ہے ۔ روایت میں ہے کہ جو بھی سحری و افطار کے وقت اس سورہ کی تلاوت کرے گا تو سحری و افطار کے درمیانی وقت میں اس کا ثواب اس شخص کے برابر ہے جو راہ خدا میں اپنے خون میں نہایا ہو ۔
۴۔ سحری کے وقت استغفار کرنے سے خدا و ملائکہ استغفار کرنے والے پر صلوات بھیجتے ہیں ۔
۵۔ ماہ رمضان المبارک میں سحرکے وقت یہ دعا پڑھنا چاہئے ۔ " اللهم انی اسئلک من بهائک بِاَبْهاهُ و کل بهائک بَهِیٌّ...الخ "
۶۔ ماہ رمضان المبارک میں سحرکے وقت دعائے ابو حمزہ ثمالی پڑھنا چاہئے ۔
(مفاتیح الجنان ،ص/ ۳۷۳۔ ۳۷۶)
 

انسان کی روح پر روزے کے اثرات

انسان اپنی زندگی کے راستے میں ترقی اور تکامل کی منزلوں کو طے کرنے کے لئے بہت سی دشواریوں سے روبرو ہوتا ہے اور خطرناک راستوں سے گزرتا ہے اور اس کے لئے بڑی زحمتیں اورمشقتیں تحمل کرتا ہے تاکہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکے ۔ لیکن جب تک وہ ان مشکلات کا سامنا نہ کرے گا ان خطرناک راستوں سے نہیں گزرے گا انسانی کمال کی منزلوں تک بھی نہیں پہنچ سکتا ہے ۔
مصائب مشکلات اور خطرے ہی انسان کو خالص اور پختہ بناتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انسان صبر و حوصلے کے ساتھ ان کا سامنا کرے اپنے ارادوں کو مستحکم رکھے اور درمیان راہ سے فرار اختیار نہ کرے ۔
انسان کے نفس کو صبر و تحمل کا عادی اور مستحکم بنانے کے لئے اسلام نے بہت ہی عالی اور موثر نظام تجویز کیا ہے اسی نظام کا ایک حصہ "روزہ" ہے ۔
روزہ انسان کو صبر و تحمل کا عادی بناتا ہے اس کی روح کو مستحکم و مضبوط بناتا ہے اور اسے ایک خاص سنگینی عطا کرتا ہے جس کے ذریعہ انسان مصائب و شدائد میں پیچھے نہ ہٹ کر اپنے اہداف کی جانب گامزن رہتا ہے ۔
دوسری طرف سے انسان کے اندر متضاد غرائز و احساسات پائے جاتے ہیں جن کو قابو میں رکھنا انسان کے لئے بہت ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ان غرائز کو معقول طریقہ پورا کیا جائے اور ان پر سخت نظر رکھی جائے ۔
انسانی وجود بہت ساری خواہشات کا مجموعہ ہے جن میں سے ہر خواہش انسان کے کمال کے راستے میں دخالت رکھتی ہے اور اس کے لئے کمال و سعادت کی راہ ہموار کرتی ہے ۔
اگر ان غرائز کی صحیح راہنمائی نہ کی جائے تو یہ غرائز انسان کے لئے بہت ساری مشکلات پیدا کرتی ہیں اور انسان کے باطن میں وحشت و اضطراب کا طوفان پیدا کر دیتی ہیں اس کی زندگی کو تلخ بنا کر عذاب سے بھر دیتی ہیں ۔ حسد ، تکبر ، لالچ ، شہوت ، نفسانی خواہشات ، ظلم و بربریت ، چاپلوسی ،تملق، پستی ، مال و مقام کی محبت دوسروں پر حکمرانی کا شوق ، یہ ساری چیزیں انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہیں ۔ لیکن اگران غرائز کی معقول طریقہ سے راہنمائی جائے اور دین و قرآن کے سایہ میں ان کی ہدایت کی جائے تو یہی غرائز انسان کی فلاح و سعادت کا باعث بن جاتی ہیں اور انسان کے اندر تواضع ، حلم ،قناعت ، تقویٰ ،عفت، عدالت ، شرافت ، استقامت و شجاعت جیسے اچھے صفات کو ایجاد کرتی ہیں ۔
انسان اپنے غرائز پر قابو پانے ، ان میں نظم پیدا کرنے ، ان کے درمیان اعتدال برقرار کرنے اور ان کی رہبری کے لئے صبر و تحمل کا محتاج ہے تاکہ حسد ،شہوت ، مال و مقام کی محبت ، کھانے کی چاہت اور دیگر برے صفات کی یلغار انسان کے ارادے کو متزلزل نہ کر سکے اور ان غرائز میں رخنہ پیدا نہ کر سکے ۔ چونکہ ان کے حملے انسان کے لئے خطرناک ہیں ان حملوں سے نفس کی حفاظت اور ان حملوں سے دفاع ان کے مقابلے میں خود کو تسلیم کرنے اور صلح کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتا ہے چونکہ ان خواہشات کی کوئی حد نہیں ہے ۔
اگر نفس ان غرائز کے تسلط سے آزاد ہوا اور ان کی باگ ڈور عقل کے سپرد کر دی گئی تو انسان کمال کی جانب بڑھے گا اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا تو اس شیر خوار بچے کی طرح ہوگا جس کا دودھ نہ چھڑایا جائے تو وہ اسی کا عادی بنا رہے گا اسی طرح یہ غرائز اگر غیر عقلانی راستے پر گامزن ہوں تو اسی طرح ان میں رشد و نمو ہوگی اور ان کی سرکشی اور قوت میں اضافہ ہوگا ۔
روزے کا ایک فائدہ یہی ہے کہ انسان کو اس داخلی جنگ میں مقابلے کے لئے آمادہ کرتا ہے اور صبر و تحمل کی قوت کو بڑھاتا ہے ۔
کیا روزہ شہوت ، لذیذ خورد و نوش کو ترک کرنے اور نفسانی غرائز کو کنٹرول کرنے کے علاوہ اور کچھ ہے ؟
جو انسان اس بات پر قادر ہے کہ ایک مہینہ تک تقریباً چودہ گھنٹے کھانا نہ کھائے ، پیاس برداشت کرے ، جنسی غریزہ کو کنٹرول کرے اور ان خواہشات سے آزاد ہو کر زندگی گزارے وہ دیگر مواقع پربھی اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ ناجائز شہوتوں سے پرہیز کرے اور اپنے دامن کو ہر برائی سے پاک رکھے ۔
اکثر برائیاں ،مشکلات اور نفسانی زندان کی گرفتاری انھیں غرائز کی وجہ سے ہیں کہ انسان ان پر کنٹرول نہ رکھ سکا اور شہوت کے مقابلے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ نہ کر سکا ۔
روزہ انسان کے اندر یہ جذبہ اور حوصلہ پیدا کرتا ہے کہ انسان غرائز کے حملے کا مقابلہ کر سکے اور انھیں خود سے دور کر سکے ۔
روزہ ہمارا یار و مددگار ہے جس کے ذریعہ ہم اپنے اوپر ہونے والے بیرونی حملوں کو بھی روک سکتے ہیں اور اندرونی حملوں سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔
اسی لئے روزہ کو صبر سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس آیت" وَاستَعِينُوا بِالَّصبرِ وَالصَلوةِ "۱ میں صبر سے مراد روزہ لیا گیا ہے ۔
جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے :
اگر کسی پر کوئی بڑی مشکل آن پڑے تو اسے روزہ رکھنا چاہئے اس لئے کہ خداوند عالم ارشاد فرماتاہے " وَاستَعِينُوا بِالَّصبرِ وَالصَلوةِ" صبر اور نماز سے مدد مانگو، اور صبر سے مراد روزہ ہے ۔
اس سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ روزہ انسان کے اندر صبر پیدا کرنے میں اہم عامل و سبب ہے اسی لئے روزہ کو صبر سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
یقیناً صبر کو قوت بخشنے والی بہترین چیز روزہ ہے اور بہترین یاد خدا نماز ہے ۔ جو بھی ان دو قوی دوستوں سے مدد لے گا بے شک حادثات و مصائب ، نفسانی خواہشات اور شیطانی مکر و حیلہ کے مقابلے میں کامیاب و سرفراز رہے گا ۔
۱۔ سورہ بقرہ،آیت/۴۵
اقتباس از : کتاب " ماہ مبارک رمضان؛ مکتب عالی اخلاق و تربیت " تالیف حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی
 

سوال