نماز صبح اور نماز مغرب کی تعقیب
امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو بھی نماز صبح اور نماز مغرب کے بعد سات مرتبہ یہ دعا پڑھے : بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ لا حَوْلَ وَ لا قُوَّةَ اِلّا بِاللهِ الْعَلِيَّ الْعَظِيمِ ، خداوند عالم ستر قسم کی بلائیں اس سے دور کر دیتا ہے ۔ جن میں سے سب سے کمترین بلا ، دیوانگی ، برص اور ناسور ہے ، اگر وہ انسان شقی ہو تو خداوند عالم اسے سعادتمند بنا دیتا ہے ۔
اقتباس : کتاب بہار جان ھا ، تالیف آیۃ اللہ کریمی جہرمی دامت برکاتہ
مشکل و گرفتاری میں پیغمبر اکرم (ص) کی دعا
امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے مروی ہے کہ اگر کبھی پیغمبر اکرم(ص) پر کوئی افتاد پڑتی یا آپ کسی مشکل سے دچار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے تھے :
يا حَيُّ يا قَيُّومُ يا حَيَّاً لا يَمُوتَ، يا حَيُّ لا اِلهَ الا اَنْتَ کاشِفُ الْهَمِّ مُجيبُ دَعُوَةِ المُضْطَرّينَ اَسْألُکَ فَاِنَّ لَکَ الحَمْدُ لا اِلهَ اِلا اَنْتَ المَنّانُ بَديعُ السَّماواتُ وَ الاَرْضِ ذُوالجَلالِ وَ الْاِکْرامِ رَحْمنَ الدُّنيا وَ الآخِرَةِ وَ رَحيمَهما رَبِّ ارْحَمني رَحْمَةً تُغْنيني بِها عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِواکَ يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ
اس دعا کے متعلق رسولخدا(ص) فرماتے ہیں : " کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے جو اس دعا کو تین مرتبہ پڑھے اور اس کی حاجت پوری نہ ہو مگر اس وقت جب کہ یہ حاجت گناہ ہو یا قطع رحم کے متعلق ہو ۔ (امالی شیخ طوسی ۔رہ۔ ج/۲، ص/۱۲۵)
اقتباس از کتاب بھار جان ھا ،تالیف حضرت آیۃ اللہ کریمی جھرمی
نماز ؛ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری وصیت
عام طور سے لوگ اس بات کے خواہشمند ہوتے ہیں کہ بزرگ شخصیتوں اور مقدس انسانوں کی آخری وصیت کو جانیں ،کون ہے جس کی شخصیت رسول اکرم(ص) سے زیادہ با عظمت ہوگی ،کون ہے جو رسول اکرم کے کمالات کی منزلوں کو پا سکتاہے تو پھر کون ہوگا جو خاتم الانبیاء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری وصیت کو جاننا اور سمجھنا نہ چاہے گا ۔
جابر بن عبداللہ ناقل ہیں : کعب الاحبار نے عمر سے پوچھا : پیغمبر(ص) کی آخری وصیت کیا تھی ؟ اس نے جواب دیا : علی سے پوچھو ۔ کعب علی علیہ السلام کے پاس آیا اور یہی سوال ان سے کیا تو حضرت نے جواب دیا : اسندت رسول الله الي صدري فوضع رأسه علي منکبي فقال: الصلاة الصلاة
میں نے رسول اکرم(ص) کو اپنے سینے سے لگایا تو آپ نے اپنا سر میرے کاندھوں پر رکھا اور فرمایا : نماز نماز
یعنی جس چیزکی پیروی تم پر لازم ہے اور دل وجان سے اس کی حفاظت واجب ہے اسے ضائع مت ہونے دینا اور اسے ہلکا نہ سمجھنا وہ نماز ہے ۔ ہمیں دل و جان سے اس کی حفاظت اور پاسداری کرنی چاہئے اور اعزاز و تکریم اور خشوع وخضوع کے ساتھ اسے بجالانا چاہئے ۔
منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر(جمال منتظر)
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی جن کا شمار آج حوزہ علمیہ قم کے بزرگ مراجع میں سے ہوتا ہے انھوں نے پچاس سال قبل محدود امکانات کے باوجود امام زمانہ (عج) کے متعلق ایک ایسی عظیم کتاب تالیف کی جو اپنے موضوع اور روش تالیف کے اعتبار سے بے مثال ہے ۔